DEAR NQSJ1432… :)

ASSALAM U ALAIKUM WR WB
ALHAMDULILLAH…. :)…..
AND JAZAKILLAH KHEIR WA AHSAN UL JAZA NQSJ1432……
WE LOVE U ALL FOR THE SAKE OF ALLAH SWT……:)
YOUR NQ FAMILY FROM NORWAY… :)

 

2014-03-16 21.41.25

 

 

 

                                                      Gazwaat

2014-03-16 21.41.59

 

NOOR -E- TAUHEED KA ITMAAM ABHI BAAQI HE………..

شاہ بانومیر
کیسے ادا ہو شکر؟
میری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفرازی
میں اسی لئے مسلماں میں اسی لئے نمازی
آپ کب سے اس سنٹر آ رہی ہیں ؟
قریبا 5 سال ہو گئے ـ
یہ سوال آج کچھ دیر قبل میرے چھوٹے بچے کے اسپیشل سنٹر کے ماہر نفسیات نے مجھ سے کیا ـ
آپ شائد ایک بات نہیں جانتیں کہ ہم یہاں سارا اسٹاف آپ کو دیکھ کر بہت ملول ہوتے تھے ـ آپ کے چہرے کی اداسی بیٹے کی پریشانی مایوسی آپ کے ہر انداز سے جھلکتی تھی ـ
لیکن
کچھ عرصہ قبل سے ہم نے حیرت انگیز تبدیلی آپ کے اندر دیکھی ہے ـ آج سوچا کہ آپ سے تفصیل پوچھ لوں ـ
تبدیلی؟
کیسی تبدیلی؟
حیرت سے میں نے سوال کیاـ
آپ کے انداز میں لباس میں گفتگو میں عجیب سا اطمینان آگیا ہے ـ پہلے آپ بہت لاپرواہ تھیں ـ ( سر جھاڑ منہ پھاڑ ) والا حلیہ تھا شائد ـ
مگر
آپ کا حلیہ یکسر تبدیل ہونے کے ساتھ چہرے پے عجیب سا سکون ہےـ
اوہ
بے ساختہ میرے دل سے آواز آئی
الحمد لِلہ ربِ العالمین
پہلی سوچ کی پرواز نے جو جست لگائی تو ذہن میں سنہرے چمکتے حروف سے ایک ہی نام ابھرا
نورالقرآن
ہینڈی کیپ بچوں کا دکھ خاص طور سے جو بچہ بول نہ سکتا ہو اس کا دکھ اس کی بے بسی اس کا اپنی معذوری پے تِلملانا خود کو مارنا کیسے ماں کیلیۓ اذیت ناک مرحلہ ہوتا ہے ـ اس بات کا ادراک صرف کسی ایسے بچے کی ماں کر سکتی ہے ـ
میں بہت مایوس رہتی تھی ـ ایک اپنے بچے کی لاچاری کی وجہ سے دوسرے پاکستان کیلیۓ جنونی حد تک کام کرنے کا شوق تھا ـ اس ملک کو کچھ بنانا چاہتی تھی ـ بیٹے کا دکھ تحریر میں ڈھلا تو نجانے کیا کیا لکھ دیا ـ لیکن اضطرری کیفیت بدستور برقرار رہی ـ عجیب سانحہ یہ ہوا کہ معاشرہ ہمارا ابھی تک حسد کا نفرت کا غیض و غضب کا شکار ہے ـ معاشرے کو نمبر ایک کی دوڑ نے نفع بخش صنعت میں ڈھال دیا ـ جہاں کوئی بے ضرر انسان اخلاص سے کام صرف اس لئے نہیں کر سکتا کہ فائدہ اٹھانے والوں کیلیۓ وہ خطرے کی علامت بن جاتا ہے ـ ایسی ہر سوچ کو خواہ خاتون ہی کیوں نہ ہو بڑی بیدردی بے رحمی سے کچلنے کیلیۓ ہر غیر اخلاقی ہتھکنڈہ استعمال کیا جاتا ہے ـ وہ تو رب کی ذات ہے جو دلوں کے بھید جانتی ہے اور حفاظت خود فرماتی ہے ـ ایسے ہی ناموافق حالات نے بھی ذہنی سوچ کو مایوسی کی جانب دھکیل رکھا تھا ـ الحمد للہ !! ضمیر پے کوئی بوجھ نہیں ہے ـ جس کی وجہ ہے ہمیشہ کام صرف خلق خدا کیلیۓ کیا کبھی ایک پیسہ نہیں لیا ـ
مگر
یہ بھی سچ ہے اس کام کیلیۓ راستے کا درست تعین نہیں تھاـ کیونکہ اسلام کو نہیں سمجھتی تھی ـ
کچھ ماہ پہلے سے نورالقرآن سے رشتہ جُڑا اور اللہ پاک نے ہدایت کا روشن در کھولا تو پتہ چلا کیسی متضاد زندگی گزار رہی تھی ـ ایک ایک لمحہ نگاہوں میں پھرنے لگا ـ بڑے بڑے پلیٹ فارمز ان پے کام اور آج اس ادارے نے یہ احساس دیا کہ پاکستان کیسے کامیاب ہوتا ـ ان غاصبوں کے چنگل سے کیسے چھڑا سکتے تھے جب خود ہی بھٹکے ہوئے تھےـ جب لکھنے والے سے لے کر پڑھنے والے تک کی سوچ کا قبلہ ہی درست نہ ہوـ رضائے الہیٰ کسی بات میں شامل ہے یا نہیں اس کا فہم ہی نہ ہو؟
مجھ جیسے اور ہزاروں لکھنے والے ہیں جو بہت اچھا لکھتے ہیں لیکن بے سود ہے سب ـ جب تک ہم اپنے اصل سے جُڑ کر اس سے وہ اسباق حاصل نہیں کرتے جو ہمارے اسلاف کے تھے اور فاتح نظام کے تھےـ
دل میں لگا”” زنگ”” ایک سال یا دو سال کا نہیں تھاـ مدتیں ہوئیں اس مادہ پرستی میں زندگی بِتاتے ہوئے اتنی غلطیاں اتنی کوتاہیاں اتنے گناہ ہوئے کہ شمار ناممکن ہے ـ لیکن اس ادارے نے یہ فہم دیا کہ اپنی اصلاح کرنی ہے انشاءاللہ ـ سوچ مضبوط تھی اور دعا اپنے اللہ سے تھی کہ اے اللہ مرتے دم تک اس نور القرآن اور اسلام سے جوڑے رکھنا ـ ہفتے میں 4 روز کلاس لینی شروع کی ایسے ایمان افروز بیانات سنے کہ غیر محسوس طریقے سے بزریعہ قرآن تحلیل نفسی شروع ہوگئی ـ پھر دھیرے دھیرے یہ ہوا کہ ہر وہ بات جو کھٹک جاتی اس کا سختی سے احتساب کرتی ـ قدم قدم پے غیر محتاط رویے کو محتاط کیا ـ ہر سوچ کے غلط زاویے کو درست سمت مرکوز کرنے کی سعی کی ـ
آزاد بے مہار زندگی کو اسلام کی مہمیز دی ـ
بار بارخود کو مشکل مراحل میں آخرت جہنم کے عذاب کا ڈراوا دیا ـ بار بار اللہ کی رحمت اور پھر اس کے جلال کو یاد کروایا ـ نماز کبھی نہیں پڑہی تھی ـ الحمد لِلہ !! آج یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ اس نور القرآن کا مجھ پے سب سے بڑا احسان نمازِ پنجگانہ کی پابندی ہےـ وہ تڑپ وہ بیقراری جو میں تلاش کرتی تھی آج اس کے توسط سے اللہ رب العزت نے عطا فرما دی ـ شعور سے اسلام کو سمجھنا سنت کو قرآن کو پڑھنا عمل کرنا اس نے سکھایا ـ
ذہن کا معیار تبدیل ہوا ـ کمزور ڈری ہوئی سوچ نے لوگوں کا غلبہ نجانے کب کہاں جا کر پٹخ دیا ـ صرف اللہ کی خوشنودی اور آخرت میں اپنے اعمال کا نتیجہ یہی فکر دامنگیر رہنے لگی ہے ـ
بزدل عورت نجانے کس لمحے اس نورالقرآن نے بہادر عورت بنا دی ـ جس کو گھر کا شعور آگیا ـ اس کی زندگی پے حق اس کے شوہر بچوں رشتے داروں کا بھی ہے ـ ملک کا بھی ہے لیکن سب سے پہلا حق اس کے رب کا ہے جس کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر ہر سانس کے ساتھ بھی ادا کیا جائے تو ناممکن ہے ـ
نفس کی ہار دراصل حق کی جیت تھی ـ ذات میں تبدیلی کا مظہر وہ درس بنے جن سے حیات نو ملی ـ مایوس بے مقصد زندگی کو قرآن نے سمجھایا” کہ” کتنی قیمتی ہے یہ زندگی جس میں مجھے ایک مقصد عطا کیا گیا ہے ـ سب کچھ کرنے کی کوشش کی نام ملا کام کیا شہرت ملی ـ مگر کیونکہ راستے کا تعین درست نہیں تھا لہٰذا اللہ نے آزمائش بھی کڑی لی ـ لیکن ـ دھند چھٹ جاتی ہے ـ دھول کو آخرِ کار موتیوں کی مانند چمکتی بارش میں گم ہونا ہوتا ہے ـ قرآن کی روشن بارش وہ بھی آپ کے ذہن پے دل پے جل تھل کرنے لگے تو لوگ سمجھ جائیں گے کہ یہ اعتماد یہ سکون یہ نیا انداز کام میں نیا پن کس نے عطا کیا ـ
مایوس زندگیوں نے اگر نئی کامیاب زندگی لینی ہے تو آئیے جُڑ جائیں اس عظیم کتاب الھدیٰ سے
میں نے سائیکٹرسٹ کی بات سن کر بڑے اطمینان سے کہا
مجھے علم نہیں کہ آپ کس مذہب سے تعلق رکھتے ہیں ـ مذہب روحانی قوت ہے جو یکسر انسان کو بدل سکتا ہے یہ بدلاؤ اسلام کا تحفہ ہے ـ
5 سال سےمایوس نظر آنے والی خاتون آج آپکو باعتماد دکھائی دے رہی ہےـ یہ قرآن مجید کا اعجاز ہے ـ مجھے اپنی ذات کی کڑی اصلاح کے بعد پتہ چلا کہ میرے اندر لاتعداد خامیاں ہیں جو مجھے کمزور دکھاتی ہیں ـ میں مومنہ ہوں تو میرا انداز مایوس کُن نہیں بلکہ با اعتماد ہونا ہے ـ اس کے لئے بہت محنت کرنی ہے اور وہ محنت کرنی ہے ـ ذریعہ اللہ نے بنا دیا “” نورالقرآن “” آج جو اعتماد آپ کو محسوس ہوا جو بہتری میری ذات میں دکھائی دی ـ وہ اس سوچ کااعجاز ہے کہ تنقید دوسروں پے نہیں”” اصلاح”” اپنی ذات کی کرنی ہے ـ
مجھے طویل عرصے کی خانہ بدوشی کے بعد اسلام کا ٹھنڈا پرسکون گھر ملا ہے ـ جس میں اتنی ٹھنڈک اتنا سکون ہے کہ بیان سے باہر ہےـ
میرے اللہ میرے قرآن میرے نبیﷺ جیسا کوئی نہیں ـ اللہ میرا تھا میرا ہے اور مرتے دم تک رہے گا ـ نبی پاک کا احترام ذات میں شامل تھاـ لیکن قسم ہے پیدا کرنے والے کی ـ ان کی اہمیت ہماری زندگی میں ہر ہر لمحہ میں کیسے ہے اس کا شعور نور القرآن نے عطا کیا ـ شکریہ نور القرآن ـ الحمد للہ!! نور القرآن کی اس تروتازہ ایمان افروز آواز نے عطا کیا ـ جس آواز کے بغیر شائد سیکڑوں گھر خود کو نامکمل سمجھتے ہیں ـ ہماری ذات کو مضبوط کر کے لوگوں کے خوف سے آزاد کر کے صرف خود کو اللہ کے حضور جوابدہی کیلیۓ تیار کرنا ہے ـ یہ شعور ابھی تک نہیں تھا بس دنیا کا غم ہی ہلکان کرتا تھا ـ آج کچھ مہینوں کے بعد میں ہوں میرا احتساب ہے اور قدم قدم پے بہتر ہونے کی شعوری کوشش ہےـ
اللہ نور القرآن کا دن دوگنی رات چوگنی ترقی دے ـ مجھ جیسی اور نجانے کتنی ہوں گی جن کی زندگی کی مایوس گھڑیوں کو امید کی روشن کرن دے کر نئی زندگی عطاکی ہے ـ
پہلے اپنے غم ذات کے حصار سے باہر نکلنے نہیں دیتے تھے ـ اب امت کا غم ایسا ملا ہے کہ اپنے غم بھول گے ـ ہم کسی کیلیۓ کچھ کر سکتے ہیں ـ ہمیں اب کچھ کرنا ہے ـ جو سن رہے ہیں اس کو بڑھانا ہے قرآن سے جوڑنا ہے سب کو ـ
یہ تڑپ یہ لگن ایسی ملی ہے کہ جس نے اپنی ذات سے بے نیاز کر دیا ـ یہ وہ اعتماد ہے جس نے نجانے کب مایوس لبادے کو روشن ہالہ دیا ـ چال کو متوازن کر کے باوقار بنایا ـ اور ویسا اعتمادآنے لگا جیسا اعتماد نورالقرآن اپنے منسلک ساتھیوں سے چاہتا ہے ـ
میں اس محترم ہستی کیلیۓ ویسے ہی دعاگو ہوں جیسے وہ ہمارے لیۓ ہے ـ کہ
اللہ پاک ان کی آواز کی گونج کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچا کے ہزاروں لاکھوں بہنوں کو مایوسی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے سے نکال کر اسلام قرآن کے روشن پُرامید جہاں میں لانے کا باعث بنے جس سے نسلیں سنورنے کے ساتھ آخرت بھی سنورتی ہے ـ
ادارے کی پہچان باکمال استاد ایسے ہماری شخصیت سنوار رہی ہیں کہ غیرمسلم مجبور ہو کے پوچھتے ہیں کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ آپ کی شخصیت اتنی تبدیل ہوگئی ـ الفاظ نہیں ہیں اور اس کی طاقت بھی نہیں کہ اس احسان کے بدلے میں کیا کروں کہ کچھ تو ادائیگی ہو سکے ـ
دن رات اللہ سے آپ کیلیۓ دعائیں ہیں آپ کیلیۓ ـ آپ کی ساتھیوں کیلئے ـ اس کے سوا ہم سب اور کچھ بھی نہیں سکتے ـ استاد کا کیا مقام ہے وہ کیسے آپ کی ذات کو تبدیل کر سکتا ہے ـ یہ اہمیت بھی اجاگر ہوئی ـ استاد وہ بھی نورالقرآن جیسی شفیق اور ہمدردہوں تو نجانے کتنی زندگیوں کو مقصد کے ساتھ کامیاب انداز دے سکتی ہیں
اب سست روی ختم ہو گئی اب تو لگتا ہے کام کا آغاز اب ہوا ہے ـ انشاءاللہ آپ کی رہنمائی میں اس مشن کوآگے بڑھانا ہے ـ اس قرآن کے کو گھر گھر کھلوا کے مطلب اور معنی کے ساتھ خواتین کو ازبر کروانا ہے کیونکہ اب ہی تو پتہ چلا کہ کام کتنا ہے اور وقت کتنا کم ہے ـ اللہ کا احسان کہ اس نے ہمیں پسند کیا اور ہدایت کا راستہ دکھایا ـ اور آپ آپ کیلیۓ صرف یہ کہنا ہے ہم سب کیسے آپ کا شکریہ ادا کریں؟؟؟؟ اس شعور کیلیۓ کہ
وقتِ فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہے
       نورِ توحید کا اتمام ابھی باقی ہے